Sony

La semaine derniere certainement vole par a la vitese de fuel fibre Google.

View Post

Microsoft

Que vous pouvez faire un don dun peu de temps ou un peu dargent fregment.

View Post

Nintendo

Aer intrat in scelerisque acume producere satellite Aurora dare scriptor.

View Post

Technology

Advertise Here

Business

Nature

Gadgets

Social

اتوار، 8 نومبر، 2015

نمبر پانچ فارمیٹ پینٹر :

Unknown     10:32 PM     No comments

 نمبر تین : کلوز اینڈ اگزیٹ :

کلوز کے تین طریقے ہیں نمبر ایک فائل سے کلوز   جس سے صرف موجودہ فائل ہی کلوز ہوتی ہے جبکہ دوسرا اور تیسرا  طریقہ ہے فائل کے انتہائی دائیں طرف کلوز کے لال نشان یا پھر فائل میں سے اگزیٹ کرنا اس سے پوا ورڈ ہی کلوز ہوجاتا ہے


نمبر چار کاپی  کٹ پیسٹ :

کاپی سے فائل ختم نہیں ہوتی اور دوسری جگہ پیسٹ ہوجاتی ہے جبکہ کٹ سے ختم ہوکر دوسری جگہ پیسٹ ہوتی ہے

کاپی کے تین طریقے ہیں اور کٹ کے بھی

کاپی نمبر ایک رائٹ کلک سے کاپی کرنا نمبر دو ہوم کی ربن سے کاپی کرنا نمبر تین کی بورڈ میں کنٹرول c سے کاپی کرنا

کٹ نمبر ایک رائٹ کلک سے نمبر دو ہوم ٹیب کی ربن سے نمبر تین کی بورڈ میں کنٹرول x کے ساتھ

پیسٹ کے بھی تین طریقے ہیں نمبر ایک رائٹ کلک نمبر دو ہوم ٹیب کی ربن سے نمبر تین کی بورڈ میں کنٹرول v  کے ساتھ


نمبر پانچ فارمیٹ پینٹر :

اسکا آپشن ہوم ٹیب کی ربن میں کلپ بورڈ کے بالکل اوپر اور کاپی پیسٹ کے نشان کے نیچے ہوتا ہے

اسکا کام یہ ہوتا ہے کہ ایک ہی فارمیٹ کو کہیں بھی سلیکٹ کرکے دوسرے ٹیکسٹ پر اپلائی کرسکتے ہیں

  

نمبر چھ بولڈ اٹیلک انڈر لائن :

ان  تینوں  کا آپشن ہوم ٹیب کی ربن میں ہوتا ہے

بولڈ رائٹ کلک سے ربن سے اور کنٹرول b سے بھی ہوتا ہے

اٹیلک ربن سے رائٹ کلک سے اور کنٹرول i سے ہوسکتا ہے

اور انڈر لائن بھی ربن سے رائٹ کلک سے اور کنٹرول u سے کیا جاسکتا ہے


ہفتہ، 31 مئی، 2014

افغان ٹرانسپورٹرز کے مسائل

Unknown     8:48 AM     No comments


ایک بلاگر کا سب سے بڑا یہی کام ہوتا ہے کہ جو حالات وہ دیکھے یا جن حالات سے گذرے ،یا جن مسائل کا سامنا کرئے ،بس اسکو تحریر میں لائے۔

رمضان میں ٹرانسپورٹ یونین کی طرف سے رابطہ کیا گیا کہ ایک ٹیم تیار ہے ،طورخم(پاک افغان بارڈر) تک جانے کیلئے تاکہ ہمارے مسائل پر روشنی ڈال سکے۔لھذا آپ سے بھی استدعاء ہے کہ ہمارے ساتھ شامل ہوجائیں۔

دراصل انکے پاس کورٹ آرڈر بھی موجود تھا کہ ان سے کسی قسم کا ٹیکس وصول نہ کیا جائے ،کہ انکی لوڈنگ اَن لوڈنگ کراچی یا لاہور سے ہوتی ہے۔لیکن پھر بھی کسٹم ،ایکسائز، ملیشیاء ،لیوی، موٹر وئے پولیس ،ٹریفک پولیس ،عام پولیس،خاصہ دار فورس اور پولیٹیکل ایجنٹ کا عملہ ہر گاڑی سے کل ملا کرایک پیرے(ٹرپ) میں تقریبا 20-30 ہزار روپے تک ظالمانہ رشوت لیتے ہیں۔

نہ دینے پر ڈرائیوروں کو غلیظ گالیاں دی جاتی ہیں،عدالت کو گالیاں دی جاتی ہیں۔بلکہ خیبر ایجنسی میں تو پولیٹیکل ایجنٹ کا ذیلی عملہ کسی عدالت کو جانتا تک نہیں۔

کلاشن کوف انکے ہاتھ میں ہوتی ہے،اور رشوت دینے میں معمولی تاخیر پر ڈرائیوروں کو بے عزت کیاجاتا ہے،انکی گاڑی کو نقصان پہنچایا جاتا ہے،ٹرکوں کے شیشے توڑے جاتے ہیں۔

اگر کوئی یہ کہے کہ جناب یہ کیوں نیٹو کا سامان لے جاتے ہیں ،تو انکے علم میں یہ بات لاؤنگا کہ یہ نیٹو سپلائی والے نہیں بلکہ افغان ٹرانزٹ ٹریڈ کی گاڑیاں ہوتی ہیں۔جس میں افغان تاجر پاکستان سے سامان لے جاتے ہیں۔گویا انکے راستے میں رکاوٹ کھڑی کرنے کا مطلب پاکستانی مارکیٹ کا راستہ روکنا ہے۔جس کی وجہ سے آہستہ آہستہ افغان تاجر بد ظن ہوتے جا رہے ہیں۔

بلکہ انہی حالات کے سبب و اب ایران کو ترجیح دیتے ہیں۔

یہ نہ ایک گاڑی ہوتی ہیں نہ دو بلکہ صرف مذکورہ بالا یونین کے ساتھ 200 ٹرک و ٹرالرز رجسٹرڈ ہیں۔اسکے علاہ بھی چند ٹرانسپورٹ یونینز ہیں۔



چنانچہ ہم نے ان تمام وقعات کو کیمرے کی آنکھ سے محفوظ کرنے کا ارادہ کیا۔ ہمارے ساتھ انٹر نیشنل میڈیا کا اہلکار بھی تھا اور لوکل پاکستانی میڈیا کے اہلکار بھی۔

اب انہوں نے چونکہ اس پر باقاعدہ پروگرام کرنے تھے ،اسلئے رشوت والے وقوعات کی ریکارڈنگ وہی کرتے رہے۔ اور میں اپنے بلاگ کیلئے مواد اکھٹا کرتا رہا۔

بچپن میں ابو کے ساتھ کئی بار جانے کے بعد کافی عرصہ ہوا تھا کہ میں بھی طورخم نہیں گیا تھا،اسلئے میں انکے ساتھ جانےپر راضی ہوا۔چنانچہ اپنے چھوٹے کیمرے کو ساتھ لے جانے کیلئے تیار کردیا۔تاکہ محفلین اور بلاگ کے قارئین کیلئے تصاویر مہیا کئے جاسکیں۔

ہمارا دو گاڑیوں کا قافلہ روانہ ہوا۔
سب سے پہلے جب خیبر ایجنسی میں داخل ہوتے ہیں تو تختہ بیگ چیک پوسٹ آتی ہے جو کہ لیوی فورس، ملیشیاءاورخاصہ دار فورس کی مشترکہ چیک پوسٹ ہے۔
یہاں باقاعدہ روزانہ 7-8 لاکھ روپے کی رشوت جمع کی جاتی ہے ،اور پھر انکو تقسیم کیا جاتا ہے۔


تختہ بیگ چیک پوسٹ کے قریب سڑک کی تعمیر کی ایک جھلک


سڑکی کی تعمیر کے حوالے سے ایک ویڈیو


تختہ بیگ کے بعد جمرود بازار کا علاقہ ہے،جو کہ پشاور سے 25 منٹ کے فاصلے پر ہے۔


سامنے باب خیبر کی ایک دھندلی جھلک


جمرود بازار میں عین باب خیبر کے دائیں طرف آرمی اور ایف سی کا مشترکہ قلعہ ہے،اور بائیں طرف اسسٹنٹ پولیٹیکل ایجنٹ کا دفتر اور جیل۔


سڑک کنارے ایک قبائلی گھر

سامنے سے آنے والے ٹرک میں امریکی فوج کی عسکری گاڑی





چونکہ سڑک زیر تعمیر ہے ،اسلئے بعض جگہوں پر پہاڑی ندی نالوں میں سے گذرنا پڑتا ہے۔یہ بھی دراصل ایک برساتی نالہ ہے،جس کےقریب ٹیلے پرملیشیاء فورس اور خاصہ دار کی مشترکہ پوسٹ موجود ہے۔


سامان سے لدے ڈاٹسن کیلئے گھات لگائے فورسز، روپوں کی لالچ میں روزے کی حالت میں اور سخت گرمی میں بھی انہوں نے عارضی ٹھکانہ بنایا ہے ،کہ کوئی مال گاڑی چھوٹ نہ جائے۔


ایک برساتی نالے میں سے گذرتے ہوئے،جس کے اوپر انگریز کے زمانے میں بنایا گیا ریل گاڑی کا پل نظر آرہا ہے۔
یہ سامنے سفید ٹو ڈی بھی ہمارئے قافلہ میں شریک ہے۔

اسی کا ایک ویڈیو منظر


نالہ سے اوپر پکی سڑک کی طرف جانے کیلئے اس خطرناک چڑھائی پر چڑھنا پڑتا ہے۔

یہ کالی کرولا جو اوپرنظر آرہی ہے ،تو یہی ہماری سواری تھی۔

چڑھائی کتنی سخت ہے ؟

شائد ویڈیو دیکھے بغیر آپ اندازہ نہ کرسکیں۔



اوپر کی دو تصاویر میں جو پانی نظر آرہا ہے،یہ قدرتی چشمے کا پانی ہے۔یہ چشمہ اسی خراب راستے کے ساتھ بہتا ہے۔
ایک جھلک یہاں ملاحظہ کیجئے۔


ایک پہاڑی منظر


ذیل کی تصویر میں کچھ خاص۔۔۔


کچھ دیکھا ۔۔۔ ۔۔۔ !!!


نہیں ۔۔۔ ۔

تو دیکھئے انگریز کے زمانے کے ریلوے ٹنل جو ابھی تک قائم ودائم ہیں ،بس معمولی مرمت کرنی ہے۔

لو جی شگئی قلعہ تک پہنچ گئے۔






شگئی قلعہ سے گزرنے کے بعد ایک پہاڑی کے پر تعمیراتی کا ہو رہا تھا ،لیکن نیچے اس سے تھوڑا فاصلے پر ایک فوجی کھڑا تھا، اور وہ بھی سادہ لباس میں لیکن مسلح، جیسے ہی اس نے ہماری گاڑیاں دیکھی ،اور کیمرئے دیکھے تو معلوم نہیں اس کے دل میں کیا خیال آیا کہ ہماری دوسری گاڑی کو روک لیا، اور لگا اس سے جھگڑنے۔

عجیب بات یہ دیکھئے کہ جس بندے سے یہ فوجی باتیں کر رہا تھا، اس کو اسی وقت سورس نے کال کی کہ باڑہ میں مزید بے گناہ لوگوں کی 18 لاشیں مل گئی ہیں،جس کے چہروں کو مسخ کیا گیا تھا،پورے باڑہ پر فوجی کنٹرول اور پھر بھی 18 مسخ شدہ لاشیں۔۔۔ ۔

شائد اس گیم کو ہم نہ سمجھ سکیں۔

چنانچہ فوجی اسکے ساتھ جھگڑتا رہا اور وہ بے نیاز فون پر باتیں کرتا رہا۔

ہمیں تو یہ بھی سمجھ نہیں آئی کہ اگر اسکی ڈیوٹی تھی تو سادہ لباس میں کیوں۔۔۔ ۔۔


بہر حال ہم نے اسکو بتایا کہ ہم یہاں انسپیکشن کیلئے آئے ہوئے ہیں تو پھر بندے سے جان چھوٹی۔


یہ رہا وہ فوجی



تیر نشان اسکی کمر سے لٹکی بندوق کی طرف ہے۔

خیر چونکہ ہم نے اگے جانا تھا ،اسلئے اس واقعے کو اگنور کرکے ہم آگے علی مسجد (ایک علاقے کا نام) کی طرف بڑھ گئے۔ تصویر میں فورسز کا نشان اور خوش آمدیدی پیغام نمایاں ہے۔



لو جی انگریزوں کے بنائے ہوئے ریلوئے ٹنل قریب سے دیکھنے ہیں ۔۔۔

تو یہ لو ۔۔۔ ۔۔






ساتھیوں نے بتایا کہ یہ تاریخی دیوار ہے، تاریخی دیوار کیوں بھئی ۔۔۔ ۔۔؟؟

یہ کسی کو نہیں معلوم تھا ،ہم نے بھی صرف تصویر کھینچنے پر اکتفاء کیا



گرمی سے بچنے کیلئے سڑک کنارے جوہڑ کے پانی میں نہاتے ہوئے بچے



لو جی طورخم آگیا۔ پہاڑی سے ایک فضائی منظر




چونکہ ہم آے ٹرانسپورٹرز کے ساتھ تھے ،اسلئے انہیں کے ڈیرے پر گئے یعنی جہاں ٹرکوں کی قطار بنی ہوتی ہے ،کسٹم کلیرنس کے بعد افغانستان جانے کی۔چونکہ روزہ تھا اور سخت گرمی تھی،اسلئے پیدل گھومنے پھرنے سے پرھیز کیا۔

اس پارکنگ میں ٹرک کھڑا کرنے کیلئے ان بیچاروں کو فی ٹرک 3000 روپے دینے پڑتے ہیں ۔جسکی وصولی خاصہ دار فورس کے ذمہ ہے۔اور اگر کوئی ڈرائیور یہ رشوت نہ دئے تو بس اسکا پھر کبھی بھی نمبر نہیں آئے گا۔





پارکنگ کے قریبی پہاڑی کا ایک منظر۔یاد رہے کہ اسی پہاڑی کا مغربی حصہ افغانستان کے زیر کنٹرول ہے۔


یہ لیجئے اسکی تصویر بھی۔یہ جال ایک قسم کی باونڈری لائن ہےجسکو ڈیورنڈ لائن بھی کہا جاتا ہے، جس نے ایک ہی پشتون قوم کو ٹکڑے
کردیا ہے۔


اس تصویر میں تو افغانستان کا جھنڈا بھی نظر آرہا ہے۔






اب آپکو دکھاتا ہوں طورخم گیٹ ،جو کہ افغانستان اور پاکستان کے درمیان ایک راستے کےطور پر استعمال ہوتا ہے۔یہاں پہلے ایک گیٹ نصب تھا،جسکو چندمہینے قبل افغان آرمی نے ٹینک کے ساتھ باندھ کر اکھاڑ لیا، اور دعویٰ یہ کیا کہ پاکستان نے یہاں پر چند میٹر تک افغانستان کی زمین پر قبضہ کیا ہے،اور شائد حقیقت بھی یہی ہو کہ اسکے بعد سے پاکستان نے اس واقعے کو دبا لیا،لھذا یہ راستہ اب بغیر گیٹ کے ہے۔






اوپر کی تصویر میں ٹرک افغانستان سے پاکستان کی حدود میں داخل ہو رہا ہے۔

یاد رہے کہ افغانستان میں ٹریفک پاکستان کے برعکس چلتی ہے۔جس کا اندازہ آپ اس ٹرک سے لگا سکتے ہیں کہ یہ پاکستان کی حدود میں داخل ہونے کے بعد بائیں ہاتھ کی طرف جانے کی کوشش میں ہے۔

ذیل کی تصویر میں بھی آپ یہی نکتہ ملاحظہ کرسکتے ہیں۔

ذیلی تصویر میں سامنے نظر آتی بلڈنگ پاکستان کے حدود میں واقع ہے۔

دیوار پر انگریزی میں لکھا ہے کہ

لوو پاکستان اور لیو پاکستان(پاکستان سے محبت کرو ،یا پاکستان چھوڑ دو)

جو بورڈ نظر آرہا ہے نیلا والا،تو اس پر لکھا ہے کہ اختتام حدود اسلامی جمہوریہ پاکستان۔

اختتام تک تو ٹھیک ہے ، رہا اسلامی + جمہوریہ تو اسکے بارئے میں آپ مجھ سے زیادہ جانتے ہیں۔

آپکی اطلاع کیلئے عرض کردوں کہ یہی وہ طورخم گیٹ ہے ،جہاں سے اوگرا پاکستان کے سابق چئیر مین توقیر صادق صرف ایک ہزار روپے رشوت دئے کر ملک سے زمینی طور پر فرار ہوئے تھے۔




اچھا جی کیمرہ مینوں نے ویڈیو شیڈیو بنا لئے ۔ساتھ میں تحصیل دار سے منہ ماری بھی ہوئی کہ اس پر جو اچانک بجلی گری تھی،پہلے تو بھڑکیں ماری لیکن جب ہم نے اسکے نکتے نوٹ کرنے شروع کئے تو پھر ہم اسکے اپنے بچے ہوگئے۔ لیکن ہم کہاں آسانی سے بچے بننے والے تھےبھئی۔

بڑا ہونے کیلئے پتہ نہیں کتنی روٹیاں کھائی ہیں، انکا ازالہ کون کرئے گا اور ہاں ابو کی مار الگ۔۔۔ ۔۔

جب بات نہ بنی تو انہوں نے اپنے پارٹنر یعنی ایف سی کرنل کو بُلایا ،کہ ان پر دباؤ ڈالو ۔

لیکن صحافی اور دباؤ توبہ توبہ۔۔۔ ۔ اخر وہی منتیں ،جناب ہمارے چھوٹے چھوٹے بچے ہیں ،روزہ ہے،عید آنے والی ہے۔

ہم نے کہا کہ بچے تو ہمارے بھی ہیں اور روزہ ہمارا بھی ہے،نیز عید بھی شائد ہم پر آپ سے پہلے آجائے کہ عموما پشتونوں کی عید سرکار سے ایک دن پہلے ہوتی ہے۔

تو کیا دیکھتے ہیں کہ میز کے دراز سے خاکی لفافے نکل آئے کہ جی یہ رکھ لیں ۔۔۔ ۔۔کام آئیں گے۔

ہمارے ایک ساتھی نے لفافے تحصیل دار کے ہاتھ سےلے کر اپنی جیب میں ڈال دئے ،




اور پھر۔۔۔ ۔۔۔ ۔۔۔ ۔۔






اور پھر ۔۔۔ ۔۔۔ ۔۔۔ ۔



پتہ نہیں وہ اسکی جیب تھی یا اندھا کنواں


وہ دن اور آج کا دن ،ہم لفافوں کی شکل دیکھنے کیلئے ترس گئے۔



اچھا جناب اب محفل میں کافی رش ہے اسلئے سب کچھ بتانے سے بہتر (اگرچہ اِس سب کچھ سے میں محروم ہی رہا )

واپسی کا سفر شروع کرلیں۔

تو جناب یہ ہوئی واپسی ۔۔۔ ۔۔




طورخم کے قریب پہاڑ میں چند غاریں ،

وجہ کا علم مجھے بھی نہیں ،

اور نا ہی کسی سے پوچھ سکا کہ حلق بالکل خشک تھا،

یہ تو شکر ہے کہ گاڑی میں ائیر کنڈیشن تھا ورنہ تو ۔۔۔ ۔۔۔ ۔۔۔ ۔۔۔ ۔۔۔ ۔۔



اکثر قبائلی علاقوں کے برساتی نالوں میں انگریز نے یہ چھوٹے چھوٹے۔۔۔ ۔۔ (اب اسکو کیا کہتے ہیں)۔۔۔ ۔ بنائے ہیں۔

اچھا کیوں بنائے ہیں ،تو اسکا جواب میرے پاس بھی نہیں ہے۔




راستے میں ایک اور ریلوئے پُل جو کہ انگریزوں نے بنایا تھا۔



اور یہ رہے ریلوئے ٹنل



یاد رہے کہ لنڈی کوتل تک ریلوئے لائن انگریزوں نے بچھائی تھی،اور لنڈی کوتل کے قریب ایک چھوٹا سا سٹیشن بھی بنایا تھا،یہ ایک تفریحی پوائینٹ تھا،اور انگریز یا دیگر سیاح سیاحت کیلئے اکثر یہاں تشریف لاتے تھے۔

میں جب چھوٹا تھا تو میں نے خود بھی اس ریل گاڑی کو دیکھا تھا جو کہ کوئلے سے چلتی تھی۔ اور شائد ہر جمعہ یا ہر اتوار کو لنڈی کوتل صبح جاتی اور شام کو واپس لوٹتی تھی۔
لیکن پھر آج سے تقریبا کوئی دس بارہ سال قبل وہ ٹرین بند کردی گئی اور ساتھ میں اس پٹھڑی کو بھی تباہی کے دھانے پر لے جایا گیا۔جسکی ایک جھلک آپ یہاں دیکھ سکتے ہیں۔




راستے میں ایوب آفریدی کا گھر بھی آتا ہے،ایک مشہور ہئروئن سمگلر،کہ جس نے ایک موقع پر زرداری کے ساتھ بھی ہاتھ کیا تھا۔اور زرداری ہاتھ ملتے رہ گئے تھے۔بھئی آفریدی کے ساتھ پالا جو پڑا تھا۔

ویسے تو ٹرکوں کے پیچھے نہیں لکھا ہوتا کہ

بوم بوم آفریدی

انکا گھر اندر کافی بڑا ہے اور اسمیں ہر چیز باہر کی لگوائی گئی ہے۔ لیکن ابھی شائد وارثین نے اس محل کو اپنی حالت پر نہیں چھوڑا۔بہر حال یہ ایک الگ موضوع ہے۔اور لکھنے کیلئے مواد بھی دستیاب نہیں۔تو اس موضوع کو یہی چھوڑتے ہیں، ہاں اسکے گھر کی بیرونی دیوار کی ایک جھلک آپ دیکھ سکتے ہیں



واپسی پر پھر جمرود کے علاقے میں باب خیبر سے گذرتے ہوئے










اختتام کرتا ہوں اپنے اس مضمون کا اس پاک وطن کے جھنڈے کی تصویر سے جو کہ ہمارے گذرتے ہوئے باب خیبر کے اوپر لہرا رہا تھا۔  

پیر، 2 ستمبر، 2013

میرا سوہنا شہر ملتان

Unknown     11:43 PM     No comments

بشکریہ علی حسان

 اردو بلاگ ” اس طرف سے “ کے عنوان سے بلاگ لکھنے والے علی حسان ۔باقاعدگی سے بلاگ تحریر کرتے ہیں اور نہایت ہی اعلیٰ انداز تحریر کے مالک ہیں ۔


جب کوئی مجھے ملتان میں ملنے آتا ہے تو پہلی جگہ جہاں میں اس کو لے جاتا ہوں اگلے بندے کی جیب کے مطابق۔ اگر صاحب حیثیت ہو تو زین زی بار یا بندو خان اور اگر غریب ہو تو شفیق سموسے والے کے پاس لے جاتا ہوں۔ اگر مجھے یقین ہو کہ پیسے مجھے بھرنے ہوں گے تو اپنے گھر بلا لیتا ہوں جہاں چائے بسکٹ ٹینگ Tang میں کام نمٹ جاتا ہے۔


 میرے شہر کا بہترین عجائب گھر۔ بوسن روڈ۔ پچھلے دس سالوں سے روڈ کی تعمیر و توسیع ہوئی جارہی ہے اور اردگرد مٹی کے ڈھیر اور ساتھ لگنے والی کالونیوں کی آمد و رفت پر لمبی قطاریں اس کو بلا شبہ کسی عجائب گھر سے کم کا درجہ نہیں دیتے۔اور جب سڑک بن بھی جاتی ہے تو سڑکوں پر گٹر کے ڈھکنوں کا غائب ہونا اور دوسرے محکموں کی کھدائیاں اس کی عظمت رفتہ کو یاد دلاتا رہتا ہے۔

مستند یاد گار خریدنے کے لیے کسی بھی مٹھائی کی دکان سےآپ شہر کی مستند یادگار خرید سکتے ہیں جو کہ سوہن حلوہ ہے۔ اور ہر دکان خواہ حافظ ہو یا حاجی ہو اور نمبر 1 ہو یا 999 سب کا دعوی یہی ہے کہ اصل سوہن حلوہ انہی کے ہاں سے ہی ملتا ہے۔

شہر کا بہترین اونچائی سے منظر دیکھنے کے لیے ملتان کا سب سے بلندی سے منظر قلعہ قاسم باغ سے دیکھا جا سکتا ہے لیکن اس میں ایک اندیشہ یہ ہے کہ آپ قلعہ بذات خود نہ دیکھ سکیں گے لہذا اگر آپ شہر کا سب سے بہترین نظارہ کرنا چاہتے ہیں تو یا تو قلعے کے ساتھ کسی موبائل کے ٹاور پر چڑھ جائیں یا کسی پرانی پانی سپلائی کرنے والی ٹینکی کا سہارا لیں۔ ایک آسان جگہ کچہری کے اوپر سے گزرنے والا فلائی اور بھی ہے جس کے ایک طرف سے کچہری اور ایک طرف سے گرلز کالج نظر آتا ہے تاہم ملتانی ٹریفک پر بھروسہ کرنے سے بہتر ہے آپ ٹاور اور ٹنکی ہی استعمال کرلیں جو کہ عوام کی سہولت کے پیش نظر جگہ جگہ تعمیر کیے گئے ہیں۔



مقامی افراد جانتےہیں کہ چمن آئس کریم کی بجائے بابا آئس کریم کھانی چاہیے کہ چمن مہنگی ہے تخت لاہور کی علامت ہے اور اچھی کوالٹی کی ہے جبکہ بابا سستی ہے ، مقامی ہے، سرائیکی راج کی علامت ہے بابا کی مقبولیت کا اندازہ اس سے لگائیں کے بابا کے ساتھ پندرہ بیس اور بابا لکی بابا ، ان لکی بابا، وغیرہ کے نام سے کھل چکی ہیں جبکہ اس سے بھی اچھا کام مسلم ہائی اسکول کے ساتھ کی قلفی ہے جو کہ ہر ریڑھی والے کے بقول اصل اس کے پاس ملتی ہے۔

 میرے شہر کے بڑے لوگوں میں گیلانی خاندان سر فہرست ہیں جنہوں نے شہرت میں بڑوں بڑوں کو پچھاڑ دیا ہے۔انہوں نے ملتانی ہونے کا ثبوت دینے کے لیے ملتان میں ایک گھر بھی تعمیر کیا ہے جو بذات خود ایک شاہکار ہے۔ اس بارے اتنی کہانیاں مشہور ہوں کہ کھل جا سم سم کی غار بھی شرماتی پھر رہی ہے۔کئی نامور سیاستدان اور گلوکارائیں ملتان سے ہی تعلق رکھتی تھیں۔ (اتفاق سے کئی سیاستدان اور گلوکارائیں آپس میں بھی تعلق رکھتے تھے) جبکہ خاکسار کا تعلق بھی ملتان سے ہے۔

ملتان آنے کا سب سے بہترین وقت موسم گرما ہے۔یوں تو ملتان میں دو ہی موسم ہیں گرما اور شدید گرما۔ تو شدید گرما جو جون سے شروع ہو کر اگست آخر تک چلتا ہے ملتان آنے کے لیے عین موزوں ہے کہ اگر آپ اچھے موسم میں آئے تو آپ کو باقی شہروں اور ہمارے شہر مٰں کیا فرق محسوس ہوگا۔ گرمی میں آئیں ملتان کی یاد نہ آئے تو پیسے واپس۔ پولینڈ کے ایک سیاح نے خود مجھ سے اعتراف کیا کہ اپریل کے مہنے دس بجے صبح ٹرین پندرہ منٹ کے لیے ملتان اسٹیشن پر رکی اور ان پندرہ منٹوں میں میں دوزخ پر ایمان لے آیا۔

ملتان میں باہر گھومنے کی سب سے اچھی جگہ کسی کے گھر کا لان ہے کہ جیسے پسینے کی برسات شروع ہوئی آپ دوبارہ گھس گئے اے سی میں۔ تاہم اس کے لیے اس شخص کے گھر میں یا توچوری گیس سے چلنے والا  جنریٹر ہو یا وہ کوئی سرکاری کالونی میں رہتا ہو کیونکہ عام گھروں میں یا تو بجلی نہیں ہوتی اور ہو تو والٹیج نہیں ہوتا جو اے سی چلا سکے۔ان کے علاوہ چین ون ٹاوربھی قابل ذکر ہے جہاں اوپر چھڑھنے کے لیے تو ایسکیلیٹرز ہیں لیکن نیچے اترنے کے لیے فقط سیڑھیاں۔ میرے خیال میں وہ دنیا کی بہترین بھول بھلیوں میں سے ایک ہے۔ اس ٹاور اور شہرت کی سیڑھی میں مماثلت یہ ہے دونوں پر چڑھ تو بندہ جاتا ہے اترتے وقت لینے کے دینے پڑ جاتے ہیں۔ ویسے تو ملتان کے فلائی اورز بھی کمال ہیں کہ جائیں فلائی اور پر اور واپسی اسی رش میں لیکن یہ ٹاور کمال ہے۔

میرا شہر جانا جاتا ہے ساونی منانے کےلیے۔ ساونی اصل میں ساون سے نکلا ہے تاہم یہ ساون کی بجائے آم کے موسم میں منائی جاتی ہے کہ آم لیے اور چل پڑے کسی ٹیوب ویل یا نہر میں۔ نہا کر گرمی کم کی اور آم کھا کر حساب برابر کر کے واپس گھروں کو آگئے۔

ملتانی باشندوں کو آپ بخوبی پہچان سکتے ہیں کہ جو بھی منافقت سے کام لے وہ یا اس کے آبا ملتان سے تعلق رکھتے ہوں گے۔

رنگین رات کے لیے جمعے رات کو کسی بھی فلائی اورر پر چلے چائیں ایک پہیے پر چلتے موٹر سائیکل آپ کا استقبال کریں گے۔ فارمولا ون سے زیادہ ملتان میں پہیہ ون کی ریسیں مقبول ہیں جس میں کئی جیالے جان گنوا چکے ہیں لیکن کھیل کی حرمت پر حرف نہیں آنے دیا۔ رنگین مزاجوں والی رنگین رات کے لیے تھیٹر ٹرائی کریں۔

ملتان سے ذرا باہر آپ کھاد فیکٹری کا دورہ کر سکتے ہیں جہاں بجلی نہیں جاتی اور اس کے ہمسائے علاقوں میں اتنی ایمونیا کی بو پھیلی ہوتی ہے کہ آپ کو آئندہ کوئی شے بد بو دار نہیں لگتی۔

ملتان مشہور گرد گدا گرما و گوروستان کی وجہ سے ہے تاہم آج کل اس کوآم سوہن حلوہ ، کرپشن اور ٹریفک کی وجہ سے جانا جاتا ہے۔ کچھ لوگوں نزدیک ملتان انضمام الحق کی وجہ سے بھی مشہور ہے لیکن انضمام کی ہر بری پرفارمنس کے بعد یہ لوگ اپنی رائے بدل لیتے تھے۔

ملتان کی بہترین مارکیٹ جمعہ بازار اور اتوار بازار ہیں جن میں خاصا شغل میلہ ہوتا ہے وگرنہ ملتان مین دکانوں کی کیا کمی ہے۔ جس رفتار سے لوگ گھر گرا کر دکانیں تعمیر کررہے ہیں اس سے امکان ہے کہ بہت جلد دکانیں زیادہ ہو جائیں گی اور مکان کم رہ جائیں گے

بہترین ناشتے کے لیے قادری کے چھولے چاول کھائیں۔ ہر دوسری ریڑھی قادری کے چھولے چاول کے نام سے ہو گی یا آلو بھی چھولے کی اور قیمت بھی مناسب مزید سڑک کنارے گھوم گھوم کر ان میں لذت کے لوازمات بھی پورے ہوتے ہیں۔

رات کا کھانا کھانے کے لیے کسی بھی ایف سی FC کو چن لیں کہ یہاں اے ایف سی AFCسے زیڈ ایف سیZFC تک ہر مال ملتا ہے۔جو قیمت اچھی لگے وہ کھا لیں۔ ویسے یہاں پر کے ایف سی اور باقی ایف سی میں فرق پیسوں کے علاوہ اور کچھ خاص نہیں۔

شہر کے ثقافتی پروگرام جاننے کے لیے پڑھیں ٹانگوں کے پیچھے لٹکے اشتہارات جن سے آپ کو ہر تھیٹر اور اور ہر سنیما کے پروگرام بارے پتہ لگ جائے گا اور ان میں کام کرنے والی ایکٹریسوں کے حلیوں ہر بھی خاطر خواہ روشنی ڈالی جاتی ہے۔

میرے شہر کا سب سے بڑا کھیلوں کا مقابلہ جوا بازی ہے جو انفرادی سطح پر پارکوں، دکانوں، گھروں، بیٹھکوں میں چل رہا ہوتا ہے۔ دوسرا اہم کھیلوں کا مقابلہ اکڑہ بازی ہے ۔ تاہم ان دونوں کھیلوں کو حکومتی سرپرستی بالکل حاصل نہیں۔بلکہ کھلاڑیوں کو کھیلتے رہنے کے لیے پولیس کو حوالات کے اندر یا باہر چندہ دینا پڑتا ہے۔

جب میرے پاس پیسے کی کمی ہوتی ہے تو میں کسی مارکیٹ میں چلا جاتا ہوں اور وہاں  فقیروں کے غول در غول دیکھتا ہوں اور ان کی گزر بسر پر غور کرتا رہتا ہوں اس طرح مجھے حوصلہ ملتا ہے کہ کبھی پھکڑ ہو بھی گئے تو اس بزنس میں بڑا پیسہ ہے۔ 

ہجوم سے بھاگنے کے لیے میں لائبریری میں چلا جاتا ہوں وہی ایک جگہ ہے جہاں کم بندے ہوتے ہیں یعنی صرف میں اور لائبریرین۔ ورنہ تو میرے اپنے گھر کا یہ حال ہے دفعہ چوالیس لگ جائے تو ہم گھر والے قانون توڑنے کے جرم میں پکڑے جائیں۔حیران نہ ہوں ہمارے شہر میں دو لائبریری موجود ہیں

اگر میرا شہر کوئی مشہور ہستی ہوتا تو پشتو فلموں کی ہیروئن ہوتا کہ پھٹے پرانے کپڑے اور جسامت ہر فلم میں پچھلی سے بڑھی ہوئی۔

ملتان کا مشہور مشروب گولی والی بوتل یا املی آلو بخارے والا شربت ہے جو کسی بھی ریڑھی سے عام مل جاتا ہے جبکہ 

ملتان کی مشہور ڈش بھنے ہوئےسٹے (بھٹے) ہیں جو آہستہ آہستہ معدوم ہوتے جاتے ہیں اور ان کی جگہ ابلی ہوئی چھلی (بھٹہ) نے لے لی ہے۔

میری پسندیدہ عمارتیں ملتان کے شادی ہال  ہیں کہ ایک تو وہاں کوئی بلا لے تو کھانا مفت مل جاتا ہے دوسرا ان کی عمارت بھی خوبصورت ہوتی ہے تیسرا وہاں پارکنگ نہ ہونے برابر ہوتی ہے جس سے ہر شادی کے اختتام پر کئی قابل دید لڑائیاں دیکھنے کو ملتی ہیں۔

ملتان میں ملنے کے قابل لوگ روہتکی ہیں جن کی گفتگو لا جواب ہوتی ہے کہ وہ ایک جملے میں چار گالیاں بکتے ہیں۔ابے تبے کے علاوہ گفتگو نہیں کرتے اور لڑنے بھڑنے کو تیار رہتے ہیں۔

ملتان کی ٹریفک مسئلہ کشمیر کے بعد دوسرا بڑا مسئلہ ہے کہ یہاں موٹر سائیکلوں اور ریڑھیوں کی بہتات ہے اور وہ دونوں خود کو ٹریفک قوانین سے بالاتر سمجھتے ہیں۔

براہ راست موسیقی سننے کے لیے کسی بھی سڑک پر چلے جائیں ہارن کی ایسی ایسی آوازیں آئیں گی کہ رات کو خواب میں بھی راگ رنگ پروگرام چلتا رہے گا۔

ایک بات جو آپ کو ملتان کے بارے جاننا چاہیے کہ ایک بار آئیں تو آئیں دوبارہ ملتان نہ آنا کہ اگر گناہ بخشوانے ہیں تو اور بھی بہت سے طریقے ہیں لازم ملتان میں ہی رہ کر نفس کا محاسبہ کرنا ہے؟

ملتان کے متعلق بہترین کتاب اور فلم آج تک بنے نہیں تاہم بلاگ آج شایع ہو رہا ہے۔

اگر ملتان کے بارے کوئی پوچھے کہ اچھا کیوں ہے تو صرف اس لیے کیوں کہ "داغ تو اچھے ہوتے ہیں"۔ آج کا ملتان قدیم ملتان اور جدید شہر کے نام پر دھبہ ہی ہے۔   

Recommended

Like Us

health

سکندر حیات بابا . تقویت یافتہ بذریعہ Blogger.

Featured Coupons

Total Pageviews

we are social

recent posts

latest tweets

Powered by Jasper Roberts - Blog

random posts

About us

recent posts

random posts

three columns

like us on facebook

Popular Posts

Blogroll

Ad (728x90)

Company

Legal Stuff

FAQ's

Blogroll

Subscribe to Newsletter

We'll never share your Email address.
© 2015 .. Blogger Templates Designed by Bloggertheme9. Powered by Blogger.