پیر، 2 ستمبر، 2013

میرا سوہنا شہر ملتان

Unknown     11:43 PM     No comments

بشکریہ علی حسان

 اردو بلاگ ” اس طرف سے “ کے عنوان سے بلاگ لکھنے والے علی حسان ۔باقاعدگی سے بلاگ تحریر کرتے ہیں اور نہایت ہی اعلیٰ انداز تحریر کے مالک ہیں ۔


جب کوئی مجھے ملتان میں ملنے آتا ہے تو پہلی جگہ جہاں میں اس کو لے جاتا ہوں اگلے بندے کی جیب کے مطابق۔ اگر صاحب حیثیت ہو تو زین زی بار یا بندو خان اور اگر غریب ہو تو شفیق سموسے والے کے پاس لے جاتا ہوں۔ اگر مجھے یقین ہو کہ پیسے مجھے بھرنے ہوں گے تو اپنے گھر بلا لیتا ہوں جہاں چائے بسکٹ ٹینگ Tang میں کام نمٹ جاتا ہے۔


 میرے شہر کا بہترین عجائب گھر۔ بوسن روڈ۔ پچھلے دس سالوں سے روڈ کی تعمیر و توسیع ہوئی جارہی ہے اور اردگرد مٹی کے ڈھیر اور ساتھ لگنے والی کالونیوں کی آمد و رفت پر لمبی قطاریں اس کو بلا شبہ کسی عجائب گھر سے کم کا درجہ نہیں دیتے۔اور جب سڑک بن بھی جاتی ہے تو سڑکوں پر گٹر کے ڈھکنوں کا غائب ہونا اور دوسرے محکموں کی کھدائیاں اس کی عظمت رفتہ کو یاد دلاتا رہتا ہے۔

مستند یاد گار خریدنے کے لیے کسی بھی مٹھائی کی دکان سےآپ شہر کی مستند یادگار خرید سکتے ہیں جو کہ سوہن حلوہ ہے۔ اور ہر دکان خواہ حافظ ہو یا حاجی ہو اور نمبر 1 ہو یا 999 سب کا دعوی یہی ہے کہ اصل سوہن حلوہ انہی کے ہاں سے ہی ملتا ہے۔

شہر کا بہترین اونچائی سے منظر دیکھنے کے لیے ملتان کا سب سے بلندی سے منظر قلعہ قاسم باغ سے دیکھا جا سکتا ہے لیکن اس میں ایک اندیشہ یہ ہے کہ آپ قلعہ بذات خود نہ دیکھ سکیں گے لہذا اگر آپ شہر کا سب سے بہترین نظارہ کرنا چاہتے ہیں تو یا تو قلعے کے ساتھ کسی موبائل کے ٹاور پر چڑھ جائیں یا کسی پرانی پانی سپلائی کرنے والی ٹینکی کا سہارا لیں۔ ایک آسان جگہ کچہری کے اوپر سے گزرنے والا فلائی اور بھی ہے جس کے ایک طرف سے کچہری اور ایک طرف سے گرلز کالج نظر آتا ہے تاہم ملتانی ٹریفک پر بھروسہ کرنے سے بہتر ہے آپ ٹاور اور ٹنکی ہی استعمال کرلیں جو کہ عوام کی سہولت کے پیش نظر جگہ جگہ تعمیر کیے گئے ہیں۔



مقامی افراد جانتےہیں کہ چمن آئس کریم کی بجائے بابا آئس کریم کھانی چاہیے کہ چمن مہنگی ہے تخت لاہور کی علامت ہے اور اچھی کوالٹی کی ہے جبکہ بابا سستی ہے ، مقامی ہے، سرائیکی راج کی علامت ہے بابا کی مقبولیت کا اندازہ اس سے لگائیں کے بابا کے ساتھ پندرہ بیس اور بابا لکی بابا ، ان لکی بابا، وغیرہ کے نام سے کھل چکی ہیں جبکہ اس سے بھی اچھا کام مسلم ہائی اسکول کے ساتھ کی قلفی ہے جو کہ ہر ریڑھی والے کے بقول اصل اس کے پاس ملتی ہے۔

 میرے شہر کے بڑے لوگوں میں گیلانی خاندان سر فہرست ہیں جنہوں نے شہرت میں بڑوں بڑوں کو پچھاڑ دیا ہے۔انہوں نے ملتانی ہونے کا ثبوت دینے کے لیے ملتان میں ایک گھر بھی تعمیر کیا ہے جو بذات خود ایک شاہکار ہے۔ اس بارے اتنی کہانیاں مشہور ہوں کہ کھل جا سم سم کی غار بھی شرماتی پھر رہی ہے۔کئی نامور سیاستدان اور گلوکارائیں ملتان سے ہی تعلق رکھتی تھیں۔ (اتفاق سے کئی سیاستدان اور گلوکارائیں آپس میں بھی تعلق رکھتے تھے) جبکہ خاکسار کا تعلق بھی ملتان سے ہے۔

ملتان آنے کا سب سے بہترین وقت موسم گرما ہے۔یوں تو ملتان میں دو ہی موسم ہیں گرما اور شدید گرما۔ تو شدید گرما جو جون سے شروع ہو کر اگست آخر تک چلتا ہے ملتان آنے کے لیے عین موزوں ہے کہ اگر آپ اچھے موسم میں آئے تو آپ کو باقی شہروں اور ہمارے شہر مٰں کیا فرق محسوس ہوگا۔ گرمی میں آئیں ملتان کی یاد نہ آئے تو پیسے واپس۔ پولینڈ کے ایک سیاح نے خود مجھ سے اعتراف کیا کہ اپریل کے مہنے دس بجے صبح ٹرین پندرہ منٹ کے لیے ملتان اسٹیشن پر رکی اور ان پندرہ منٹوں میں میں دوزخ پر ایمان لے آیا۔

ملتان میں باہر گھومنے کی سب سے اچھی جگہ کسی کے گھر کا لان ہے کہ جیسے پسینے کی برسات شروع ہوئی آپ دوبارہ گھس گئے اے سی میں۔ تاہم اس کے لیے اس شخص کے گھر میں یا توچوری گیس سے چلنے والا  جنریٹر ہو یا وہ کوئی سرکاری کالونی میں رہتا ہو کیونکہ عام گھروں میں یا تو بجلی نہیں ہوتی اور ہو تو والٹیج نہیں ہوتا جو اے سی چلا سکے۔ان کے علاوہ چین ون ٹاوربھی قابل ذکر ہے جہاں اوپر چھڑھنے کے لیے تو ایسکیلیٹرز ہیں لیکن نیچے اترنے کے لیے فقط سیڑھیاں۔ میرے خیال میں وہ دنیا کی بہترین بھول بھلیوں میں سے ایک ہے۔ اس ٹاور اور شہرت کی سیڑھی میں مماثلت یہ ہے دونوں پر چڑھ تو بندہ جاتا ہے اترتے وقت لینے کے دینے پڑ جاتے ہیں۔ ویسے تو ملتان کے فلائی اورز بھی کمال ہیں کہ جائیں فلائی اور پر اور واپسی اسی رش میں لیکن یہ ٹاور کمال ہے۔

میرا شہر جانا جاتا ہے ساونی منانے کےلیے۔ ساونی اصل میں ساون سے نکلا ہے تاہم یہ ساون کی بجائے آم کے موسم میں منائی جاتی ہے کہ آم لیے اور چل پڑے کسی ٹیوب ویل یا نہر میں۔ نہا کر گرمی کم کی اور آم کھا کر حساب برابر کر کے واپس گھروں کو آگئے۔

ملتانی باشندوں کو آپ بخوبی پہچان سکتے ہیں کہ جو بھی منافقت سے کام لے وہ یا اس کے آبا ملتان سے تعلق رکھتے ہوں گے۔

رنگین رات کے لیے جمعے رات کو کسی بھی فلائی اورر پر چلے چائیں ایک پہیے پر چلتے موٹر سائیکل آپ کا استقبال کریں گے۔ فارمولا ون سے زیادہ ملتان میں پہیہ ون کی ریسیں مقبول ہیں جس میں کئی جیالے جان گنوا چکے ہیں لیکن کھیل کی حرمت پر حرف نہیں آنے دیا۔ رنگین مزاجوں والی رنگین رات کے لیے تھیٹر ٹرائی کریں۔

ملتان سے ذرا باہر آپ کھاد فیکٹری کا دورہ کر سکتے ہیں جہاں بجلی نہیں جاتی اور اس کے ہمسائے علاقوں میں اتنی ایمونیا کی بو پھیلی ہوتی ہے کہ آپ کو آئندہ کوئی شے بد بو دار نہیں لگتی۔

ملتان مشہور گرد گدا گرما و گوروستان کی وجہ سے ہے تاہم آج کل اس کوآم سوہن حلوہ ، کرپشن اور ٹریفک کی وجہ سے جانا جاتا ہے۔ کچھ لوگوں نزدیک ملتان انضمام الحق کی وجہ سے بھی مشہور ہے لیکن انضمام کی ہر بری پرفارمنس کے بعد یہ لوگ اپنی رائے بدل لیتے تھے۔

ملتان کی بہترین مارکیٹ جمعہ بازار اور اتوار بازار ہیں جن میں خاصا شغل میلہ ہوتا ہے وگرنہ ملتان مین دکانوں کی کیا کمی ہے۔ جس رفتار سے لوگ گھر گرا کر دکانیں تعمیر کررہے ہیں اس سے امکان ہے کہ بہت جلد دکانیں زیادہ ہو جائیں گی اور مکان کم رہ جائیں گے

بہترین ناشتے کے لیے قادری کے چھولے چاول کھائیں۔ ہر دوسری ریڑھی قادری کے چھولے چاول کے نام سے ہو گی یا آلو بھی چھولے کی اور قیمت بھی مناسب مزید سڑک کنارے گھوم گھوم کر ان میں لذت کے لوازمات بھی پورے ہوتے ہیں۔

رات کا کھانا کھانے کے لیے کسی بھی ایف سی FC کو چن لیں کہ یہاں اے ایف سی AFCسے زیڈ ایف سیZFC تک ہر مال ملتا ہے۔جو قیمت اچھی لگے وہ کھا لیں۔ ویسے یہاں پر کے ایف سی اور باقی ایف سی میں فرق پیسوں کے علاوہ اور کچھ خاص نہیں۔

شہر کے ثقافتی پروگرام جاننے کے لیے پڑھیں ٹانگوں کے پیچھے لٹکے اشتہارات جن سے آپ کو ہر تھیٹر اور اور ہر سنیما کے پروگرام بارے پتہ لگ جائے گا اور ان میں کام کرنے والی ایکٹریسوں کے حلیوں ہر بھی خاطر خواہ روشنی ڈالی جاتی ہے۔

میرے شہر کا سب سے بڑا کھیلوں کا مقابلہ جوا بازی ہے جو انفرادی سطح پر پارکوں، دکانوں، گھروں، بیٹھکوں میں چل رہا ہوتا ہے۔ دوسرا اہم کھیلوں کا مقابلہ اکڑہ بازی ہے ۔ تاہم ان دونوں کھیلوں کو حکومتی سرپرستی بالکل حاصل نہیں۔بلکہ کھلاڑیوں کو کھیلتے رہنے کے لیے پولیس کو حوالات کے اندر یا باہر چندہ دینا پڑتا ہے۔

جب میرے پاس پیسے کی کمی ہوتی ہے تو میں کسی مارکیٹ میں چلا جاتا ہوں اور وہاں  فقیروں کے غول در غول دیکھتا ہوں اور ان کی گزر بسر پر غور کرتا رہتا ہوں اس طرح مجھے حوصلہ ملتا ہے کہ کبھی پھکڑ ہو بھی گئے تو اس بزنس میں بڑا پیسہ ہے۔ 

ہجوم سے بھاگنے کے لیے میں لائبریری میں چلا جاتا ہوں وہی ایک جگہ ہے جہاں کم بندے ہوتے ہیں یعنی صرف میں اور لائبریرین۔ ورنہ تو میرے اپنے گھر کا یہ حال ہے دفعہ چوالیس لگ جائے تو ہم گھر والے قانون توڑنے کے جرم میں پکڑے جائیں۔حیران نہ ہوں ہمارے شہر میں دو لائبریری موجود ہیں

اگر میرا شہر کوئی مشہور ہستی ہوتا تو پشتو فلموں کی ہیروئن ہوتا کہ پھٹے پرانے کپڑے اور جسامت ہر فلم میں پچھلی سے بڑھی ہوئی۔

ملتان کا مشہور مشروب گولی والی بوتل یا املی آلو بخارے والا شربت ہے جو کسی بھی ریڑھی سے عام مل جاتا ہے جبکہ 

ملتان کی مشہور ڈش بھنے ہوئےسٹے (بھٹے) ہیں جو آہستہ آہستہ معدوم ہوتے جاتے ہیں اور ان کی جگہ ابلی ہوئی چھلی (بھٹہ) نے لے لی ہے۔

میری پسندیدہ عمارتیں ملتان کے شادی ہال  ہیں کہ ایک تو وہاں کوئی بلا لے تو کھانا مفت مل جاتا ہے دوسرا ان کی عمارت بھی خوبصورت ہوتی ہے تیسرا وہاں پارکنگ نہ ہونے برابر ہوتی ہے جس سے ہر شادی کے اختتام پر کئی قابل دید لڑائیاں دیکھنے کو ملتی ہیں۔

ملتان میں ملنے کے قابل لوگ روہتکی ہیں جن کی گفتگو لا جواب ہوتی ہے کہ وہ ایک جملے میں چار گالیاں بکتے ہیں۔ابے تبے کے علاوہ گفتگو نہیں کرتے اور لڑنے بھڑنے کو تیار رہتے ہیں۔

ملتان کی ٹریفک مسئلہ کشمیر کے بعد دوسرا بڑا مسئلہ ہے کہ یہاں موٹر سائیکلوں اور ریڑھیوں کی بہتات ہے اور وہ دونوں خود کو ٹریفک قوانین سے بالاتر سمجھتے ہیں۔

براہ راست موسیقی سننے کے لیے کسی بھی سڑک پر چلے جائیں ہارن کی ایسی ایسی آوازیں آئیں گی کہ رات کو خواب میں بھی راگ رنگ پروگرام چلتا رہے گا۔

ایک بات جو آپ کو ملتان کے بارے جاننا چاہیے کہ ایک بار آئیں تو آئیں دوبارہ ملتان نہ آنا کہ اگر گناہ بخشوانے ہیں تو اور بھی بہت سے طریقے ہیں لازم ملتان میں ہی رہ کر نفس کا محاسبہ کرنا ہے؟

ملتان کے متعلق بہترین کتاب اور فلم آج تک بنے نہیں تاہم بلاگ آج شایع ہو رہا ہے۔

اگر ملتان کے بارے کوئی پوچھے کہ اچھا کیوں ہے تو صرف اس لیے کیوں کہ "داغ تو اچھے ہوتے ہیں"۔ آج کا ملتان قدیم ملتان اور جدید شہر کے نام پر دھبہ ہی ہے۔   

0 comments :

چلتے یونان کو

Unknown     11:36 PM     No comments


ڈاکٹر افتخار راجہ کا اٹلی سے اردو بلاگ کچھ ادھر ادھرسے

ملک یونان سے ہماری واقفیت مرحلہ وار ہوئی تو اس کو اسی تربیت سے بیان کیا جاتا ہے

حکیم محمد یوسف (یونانی)

یونا ن سے ہمارا واسطہ حکیم محمدیوسف (یونانی) آئمہ پٹھاناں والے کے مطب پر لکھی تختی سے ہی ہوتا تھا، ادھر بھی ہمارا جانا تب ہی ہوتا جب بھینسیں گم ہوجاتیں اور ہماری ڈیوٹی ادھر شمال کو ڈھونڈنے کی ہوتی، گزرتے ہوئے اگر حکیم صاحب جو نہایت نیک صورت و سیرت بزرگ تھے باہر سڑک پر دھوپ سینکتے نظر آجاتے ، تو ان سے پوچھ لیتے کہ حکیم صاحب سلام، کہیں آپ نے ہماری مجھیں تو ادھر جاتی نہیں دیکھیں، باوجود اس کے کہ ہمیں انکا جواب معلوم ہوتا کہ : " پتر میں تو ابھی ایک مریض کو چیک کرکےنکلاہوں"۔

اسکندر اعظم عرف سکندر یونانی

اس شخصیت کے بارے ہمیں اپنے چڑھتی جوانی سے پہلے ہی علم ہوچکا تھا، میاں لطیف صاحب اکثر جمعہ کا خطبہ دیتے ہوئے نعرہ مارتے " گیا جب اسکندر اس دنیا سے تو اسکے ہاتھ خالی تھے" تب ہم میاں جی کے علم کے اور انکے پہنچے ہوئے ہونے کے" فل "قائل تھے ، پھر یہی نعرہ ہم نے بعد میں بھیک شہر میں بھیک مانگنے والوں سے بھی سنا تو وہ بھی بہت دور تک پہنچتے ہوئے لگے جبکہ ہم بھی ان سے دور رہنے کی کوشش کرتے۔ ہمارے پنڈ کے تاریخ دان بابوں کا خیال تھا بلکہ سرٹیفائیڈ بات تھی کہ اسکندر اعظم کی فوج نے جو دریائے جہلم عبور کیا راتوں رات تو ہو نہ ہو، یہ ہمارے گاؤں کے مقام سے تھا اور اس میں لازمی طور پر ہمارے گاؤں والوں کی ملی بھگت بھی رہی ہوگی، جبکہ ہمارے دوست غ کا کہنا تھا کہ یہ کیسے ممکن ہے جب ماسی ضہری ادھر گلی میں سے ککڑ تو گزرنے نہیں دیتی ، کوئی ڈیڑھ سوگالی ہمیں دیتی ہے اگر دن میں دوسری بار ادھر جاتے دیکھ لے تو، پھر یہ کیسے ممکن ہے کہ اسکندر یونانی ادھر سے نکل لیا ار ماسی ضہری کو پتا نہ چلا، اسلئے یہ سب بکواس ہے، بابا لوگ ایویں ہی اپنے نمبر ٹانگ رہے ہوتے ہیں، پھر اسکے ساتھ فوجی بھی تھے، فوجیوں کی ایسی کی تیسی جو ہمارے ادھر سے گزریں بھی ، انکوپتا ہے کہ یہ علاقہ" آوٹ آف باؤنڈ " ہے

حکمت یونانی

یونانی حکمت کا ہم تب علم حاصل ہوا جب علم معالجات پڑھنے کی ٹھانی، کہ یہ علم طب کی وہ قسم ہے جس کو یونان نے بہت فروغ دیا، پھر ادھر سے عربوں تک پہنچا اور پھر ادھر ہمارے پاس، اس علم میں چار علتیں بیان کی جاتیں : خون، سودا، صفرا اور بلغم اور علا ج بلضد کے طور پر معالجات ہیں ابتداء میں جڑی بوٹی اور پھر مختلف معدنیات وہ زہریں استعمال ہوتیں، ہمارے لئے دلچسپی کاباعث "کشتے " ہوتے ، جی بلکل وہی والے جو " بوڑھے کو جوان اور جوان کو فٹ " کردیتے ہیں۔مگر ایسا کشتہ بیچنے والے تو بہت ملے مگر بتانے والا کوئی نہ ملا، اگر کوئی حکیم تب بتادیتا تو ہم بھی " دکان بڑھاجاتے"۔

مولبی انور حسین قادری

یہ مولبی جی سرائے عالمگیر سے آتے تھے اوراپنے سفید کرتے پاجامہ اور سبز پگڑی پھر لہک لہک کے نعتیں گانے کی وجہ سے ہمارے گروپ میں فل مشہورتھے بلکہ بہت قدر کی نگاہ سے دیکھا جاتے، اندر سے پورے لچے اور تاڑو تھے جبکہ اوپر سے بہوت شریف ، انکی ہمارے مشٹنڈا گروپ میں شمولیت ہمارے لئے انتظامیہ کی نظروں میں شریف بننے کی ایک کوشش تھی۔ تیسرے درجے میں جب ہم پہنچے تو ایک دم سے مولبی جی غائب ، معلوم ہوا کہ یونان چلےگئے، ان ہی دنوں یہ خبریں آنے لگیں کہیونان کے ذریعے ایجنٹ یورپ میں پہنچاتےہیں، بس بندہ کسی طریقہ سے ترکی پہنچے تو ادھر سے یونان اور پھر یورپ کی اینٹری، ہیں جی۔اور ادھر یورپ میں گوریاں، پس مولبی جی قسمت پر رشک کرتے ، ہیں جی ، کہ لٹ موجاں گئے ہیں یہ مولبی جی تو، ہیں جی

چلتے ہو تو یونان کو چلئے

اٹلی آکر احباب سے علم حاصل ہوا کہ ہمیں یونان پہنچنا چاہئے۔ اسکی دو وجوہا ت تھیں ہمارے لئے، مولبی جی کے علاوہ ایک تو یہ کہ ہمارے ہیلنک ہومیوپیتھیک میڈیکلایسوسی ایشن کا کورس اور دوسرے ادھر کاغذ کھلے ہوئے ہیں، مطلب پھر ہم ویزہ کے جنجھٹ سے آزاد ہوجائیں گے۔ تو بس جناب پہنچ گئے ادھر کو یوں مارچ 1998 کو، اب ادھر اپنے جاننے والے تو کافی تھے، ہمارا کام ہوتا پڑھنا اور فارغ رہنا، پھر کاغذوں کی فکر ہوئی تو جانے کیسے کچھ جاننے والوں نے ایک دن ایک سفید کارڈ ہمارے ہاتھ لا کر دے دیا کہ جی آپ کی "سفید خرطی بن گئی" اور ہم اسی پر خوش، اس کے بعد سبز ہوئیں گی اور پھر آپ ادھر پکے، ہائے ہائے کیا دن تھے ہیں جی، دن بھر ادھر انگریزی بولو، شام کو ہیلنااسپرانتو ایسوسی ایشن کے کسی پنچ ست ممبران کے ٹولے کے ساتھ گپیں اسپرانتو میں اور پھر رات کو ڈیرے پر آکر پنجابی بولو، ہیں جی، البتہ تب کچھ کچھ چیزیں یونانی زبان کی بھی سمجھ آتیں ، جن میں "مالاکا " اور "ماگا" کے دوالفاظ ہمارے کانوں میں اکثر پڑتے اور پھر تحقیق کرنے پر معلوم ہوا کہ دونوں گالیوں کے زمرے میں آتے ہیں ، پس ہم نے بھی یونانی زبان صرف گالیوں کی حد تک ہی سیکھی ، اب ایسی بھی کوئی بات نہیں کہ ہمیں صرف دو گالیاں ہی یاد تھیں، یاد تو بہت سی تھیں مگر اب یہ دو ہی دماغ میں رہ گئی ہیں۔









پھر جناب ادھر جون اور جولائی کے دن اور بیچز "کالاماکی " کے اور ہم ، ایک پرانی جینز کا کاٹا اور ادھر گھٹنو ں تیک اور پھر پورا دن لگا کر اسکے دھاگے نکال کے "پھمن " بنائے اور نیچے نائیک کے کالے جوگرز ، اور رے بین کی عینک زیب تن کئے ہم ادھر امونیا اسکوائیر سے کالاماکی تک پھر تے کئے، تب یونانی دیویاں غیر ملکیوں پر اتنی کرم نواز نہیں تھیں۔ بس دور دور ہی رہتیں اور ہم راجہ اندر کی طرح اپنی کورس میٹس میں نہایت شریف اور مسلمان ہونے کے گھرے رہتے ۔ ہیں جی، کبھی کبھی شریفت کا حجاب بھی بندے کو کھجل کرکے رکھ دیتا ہے۔




مولبی انور قادری کوبھی ادھر ڈھونڈھ نکالا مگر معلوم ہوا کہ یہ بندہ کسی کام نہیں رہا، ادھر آکر پکا مولبی ہوگیا ہے اور یہ کہ مسجد سے باہر کسی سے ملتا ہی نہیں، کام اور پھر مسجد، گویا انک کی کایا کلپ ہوگئی ہے۔ ہیں جی

ویک اینڈ کا مزہ

ادھر سمجھ آئی کہ وییک اینڈ کیا ہوتا ہے، ملازمین کو تنخواہ جمعہ کی شام کو ملتی اور اگر ہفتہ کو کام نہیں کرنا تو بس پھر آپ کا ویک اینڈ شروع، آپ کی جیب میں کوئ پچیس تیس ہزار درخمے پڑے ہیں جو عوامی تنخواہ تھی تو پھر کرو موجاں، یار لوگ جمعہ کی شام کو ہی بئیر کے گلاس پر "پارئیا" کرنے مطلب گپ لگانے چلے جاتے اور رات کو دو دو بجے لوٹتے ، جو ہفتے کو کام کرتے وہ ہفتے کی شام کو نکل لیتے۔

بتی والا گھر

ہماری یاری چوہدری رمضان کے ساتھ تھی کہ ہمارے ساتھ کے پنڈ کا تھا اور جب پاکستان میں تھا توہماری زمین میں ٹریکٹر سے ہل چلایاکرتا تھا، جانے کب ادھر کو نکل آیا، ایک دن جمعہ کی رات کو ٹن ہوکر آیا تو کہنے لگا : :ڈاکٹر آپ بتی آلے گھر گئے؟" نہ چوہدری وہ کیا ہوتا ہے اور کدھر ہوتا؟ لو دسو آپ کو بتی آلے گھر کا نہیں پتا ، ایسا نہیں ہوسکتا، وائی کسمیں چوہدری نہیں پتا، میں ماننے والا تو نہیں مگر آپ کہتے ہو تو مان لیتا ہوں ، بس آپ کل تیار ہوجاؤ صبح ہی اور ہم نکل لیں گے، مگر کسی کے سامنے نام نہ لینا، اب اتنے مولبی تو ہم بھی نہ تھے سنا ہوا تو سارا کچھ تھا، پس کل کا پروغرام دماغ میں لے کر سورہے۔

دوسرے دن "ارلی ان دی مارننگ" مطلب کوئی گیارہ بجے آنکھ کھلی ، اور ناشتہ ، اگلے ہفتے کی خریداری، تین بجے فارغ ہوکر ، رمضان نے آنکھ ٹکائی کہ نکل ، اور ہم جو دیر سے اس لمحے کو "اڈیک" رہے تھے پس نکل لئے، آج ہمارے دل میں چور تھا۔ ہیں جی۔

اومونیا اسکوارئر کو پہنچے اور ادھر دیکھا کہ کوئی پاکستانی تو نہیں دیکھ رہا ، کم ازکم مولبی انور تو نہیں گھوم رہا۔ ہیں جی

اور کسی چور کی طرح رمضان کے پیچھے چلتے رہے، اس دن اسکی چال واقعی کسی چوہدری کی چال تھی، پورے لطف میں تھا۔

بس پھر ہم "پلاکا" کی گلیوں میں گھومتے رہے، ان گلیوں میں جو ایتھنز کا قدیم مطلب انٹیک حصہ تھا۔

بس پھر رمضان نے ہمارے ہاتھ دبایا یہ یہ جو گھر ہیں جن کے دروازے پر دن دھیاڑے جو بلب جل رہا ہے "گویا سورج کو چراغ دکھانے کی کوشش کی جارہی ہے" یہ ہی ہماری منزل مقصود ہے اور ادھر ہی سے وہ گوہر نایاب ملنے والا ہے۔

مگر اس میں نہیں جانا کہ ادھر مال پرانا ہوتا ہے، ادھر بھی نہیں جانا کہ ادھر مال مہنگا ہے ، ان کے بستر گندے ہیں، یہ والے غیرملکیوں کو پسند نہیں کرتے، یہ والے ، بس ہم پہنچ گئے، ادھر کھلے دروازے میں سے ہم لوگ اندر گھسے تو بس کچھ کچھ اور ہی منظر تھا، عجیب سرخ کی روشنی میں نہا سے گئے، ایک بڑا سا ہال تھا اور اسکے کونے میں کرسی پر ایک پرانی پھاپھڑ قسم کی مائی نے بہت بڑا منہ کھول کر ہمیں " یاسس " کہا جواب رمضان نے ہی دیا اور لگے ہاتھوں اسکا احوال بھی پوچھ ڈالا اور یہ بھی بتادیا یہ "یاترو" ہے جو پاکستان سے آیا ہے اور ادھر اسکی خدمت کرنا مانگتا، رمضان نے اشارہ کیا اور اسکے ساتھ ہی میں بھی کرسی پر ٹک سا گیا۔ بس پھر غور کیا تو اس ہال میں دونوں طرف اور سامنے چھوٹی چھوٹی گیلریاں

تھیں جنکے اندر دونوں اطراف میں دروازے تھے ، شایدکمرے ہوں گے۔

ہمارے بیٹھے بیٹھے ہی ایک دروازہ کھلا اور ایک لڑکی اس میں سے نمودار ہوئی، بس لڑکی کیا جناب، ایک حسینہ وہ جمیلہ، وہ بھی صرف بریزیر اور چڈی میں، ہائے ہائے، ہمارا تو بس دل ہی دہل گیا، ہیں جی، ہمارے ادھر سامنے سے ہماری آنکھوں میں آنکھیں ڈالتے ہوئے ، دیدے مٹکاکر گزری اور یاسسس کہتی ہوئی ، گویا ہمیں دعوت شباب و شتاب دی جارہی ہے، ایک کمرے میں دوسری طرف گھس گئی۔ ہم تو قریب المرگ ہی ہوگئے تھے قسمیں۔ پر رمضان نے ہاتھ تھپ تھپایا اور کہا پولا سا ہمارے کان میں کہ یہ وہ مال نہیں ، صبر۔

پھر ایک اور ، ہیں جی

پھر ایک اور ، اور پھر ایک اور ہیں۔

اور پھر رمضان نے بڈھی سے کسی کا پوچھا اور انکار ی جواب پاکر ہم کو اشارہ کہ ادھر سے نکل، کہ وہ مال نہیں ہے ۔ باہر آکر بولا کہ ادھر وہ دانہ نہیں ہے ایک اور جگہ چلتے ہیں ، راستے میں دوچار دروازوں میں داخل ہوئے اور تھوڑی دیر مال دیکھا اور پھر نکل لیئے، کہیں رمضان کو مطلوبہ بندی نہ نظر آئی اور کہیں پیسے زیادہ تھے۔ پھر ایک جگہ بیٹھے ہوئے تھے اور "یہ چیز "کا نعرہ رمضان نے مارا ، لڑکی حسب دستور یاسس کہہ کر دیدے مٹکاتی اور کولہے ہلاتی ہمارے سامنے سے گزر گئی اور ہم دل پکڑ کررہ گئے۔ ہیں جی لڑکی تھی یا قیامت ، ہیں جی، دل میں ہی کھب گئی اور ہم ہزار جان عاشق ہوگئے۔ ہیں جی

رمضان نے بات کی مائی سے ، چھ ہزار مبلغ میں بات طے پائی اور رمضان نے مجھے کہا کو وہ دائیں کو سامنےآلے کمرے میں ہو لو، مگر وہی چولوں والی حرکتیں ہماری کہ نہ چوہدری پہلے تم ، ہیں جی، آخر میں عمر میں ہم سے بڑا تھا۔ ہیں جی ، اور وڈوں کو احترام ہی تو ہم نے سیکھا ہے۔چونکہ یہ پہلی بار تھی ادھر جانے کی تو ایک جھجک سی بھی شاید ، یا پھر خورے کیوں؟ ہیں جی۔

رمضان میری طرف غور سے دیکھتا ہوا ، پولا سا اٹھ کر اس دروازے میں داخل ہوگیا، اب میں ادھر بیٹھ ہوا تھا اور ادھر ادھر دیکھنے اور اواسیاں لینے کے علاوہ میرے پاس کچھ کرنے کو نہ تھا۔ چند منٹ بعد ایک آدمی نکلا بیلٹ باندھتا ہوا، شاید اسی کمرے سے نکلا تھا جس میں سے وہ حسینہ برآمد ہوئی تھی یا اسکے سامنے والے سے۔ ہیں جی، پر سانوں کی؟ ہیں جی۔

کوئی پندرہ بیس منٹ کے انتظار کے بعد وہی دل چیر حسینہ پھر برآمد ہوئی اور ہمیں یاسس کہتی ہوئی اس بار بڈھی کے اشارے پر رمضان کے کمرہ میں، اس دوران ہم نے نوٹ کیا کہ ہماری طرح کے کافی لوگ آکر جابھی چکے تھے ہر آنے والے کہ چہر ے پر ایک مسکراہٹ بھی تھی یا کچھ روشنی سی۔ اور یہ بھی کہ مختلف اطراف سے تین چار لڑکیاں ایک گیلری کے دروازے سے نکل کردوسری گیلری کے دروازے میں داخل ہورہی تھیں اور انکے پیچھے سے کچھ دیر بعد کوئی بندہ بھی نکلتا اور نظریں چراتاہوا ہمارے سامنے سے گزر کے باہر کا منہہ کرتا، تب کوئی بھی سلام دعا نہ کررہا تھا، شاید انکو یاد نہ رہتی ہوگی، ہیں جی ، آخر بندہ بے دھیانہ بھی تو ہوہی جاتا ہے، ہیں جی۔

پھر ہم نے نوٹ کیا کہ اسی دروازے سے جدھر سے وہ حسینہ عالم برآمد ہوئی ایک آدمی بیلٹ کستا ہوا نکلا اور بڈھی تب تک ایک اور بندے سے چھ ہزار درخمے لےکر اسے اس کمرے سے پہلے میں جانے کا اشارہ کرچکی تھی۔

کچھ دیر بعد شاید بیس منٹ کے بعد رمضان والا دروازہ کھلا اور وہ ہی حسینہ نکلی اور ہمیں یاسس کہہ کر دعوت دیتی ہوئی بڈھی کے اشارے پر دوسرے والے کمرے میں چلی گئی، رمضان بھی تھوڑی دیر بعد نکلا اور منہہ نیچے کرکے مجھے سے پوچھا" ہاں ؟ ہے پروغرام؟ " جانے کیوں میرے منہہ سے نکل گیا نہیں یار، پر کیوں؟ رمضان پر حیرت ٹوٹ پڑی، اس سے خوب مال پورے ایتھنز میں کہیں نہیں ملے گا، پر میرا دل نہیں ہے، پر کیوں؟ پیسے میں دوں گا، نہیں یار میرا دل نہیں کررہا ، چل واپس چلیں، پر کیوں؟ کیا ہوا ؟ اگر یہ والی پسند نہیں ہے تو کسی اور جگہ چلیں؟ میری نظر میں اور بھی مال ہے۔ نہیں یار میری طبیعت صحیح نہیں ہے، گھر کو چل۔ اچھا چل کچھ کھاتو لیتے ہیں، تو کھالے یار میرا دل نہیں۔ چل اب آئے ہیں تو تیرو پتا ہی کھالے ، نہیں یار میرا دل نہیں تو کھالے میں ادھر ہی ہوں تیرے ساتھ بیٹھاتا ہوں۔

شاید میرا من ہی مارا گیا تھا۔ شاید مجھے وہ میکانزم سمجھ آگیا تھا، شاید میں بہت سیانا تھا اور دور کی سوچ رہا تھا، نہیں شاید واقعی میری طبیعت خراب ہوگئی تھی، مگر ایک بات ہے ، اسکے بعد بھی جب کبھی اس علاقے سے یا اس جیسے کسی محلے سے گزر ہا تو ، اندر جھانکنے کا حوصلہ نہ پڑتا اور جب بھی اس بتی والے گھر کے بارے میں ذکر ہوتا ہے میری طبیعت اب بھی خراب ہوجاتی ہے۔ ویسے بندے کو ایڈا وی حساس نہیں ہونا چاہئے۔ ہیں جی





















ایک وضاحت، رات کو نہ لکھ سکے اس پوسٹ کا عذاب ثواب علی حسن پر ہے، کہ یہ بندہ ہمیشہ ایسی آدھی سی پوسٹ کر ہمیں ٹینش دلوادیتا ہے، کہ جی بس پرانی یادوں میں غوتے لگاؤ اور کھوتے بنو

0 comments :

Recommended

Like Us

health

سکندر حیات بابا . تقویت یافتہ بذریعہ Blogger.

Featured Coupons

Total Pageviews

we are social

recent posts

latest tweets

Powered by Jasper Roberts - Blog

random posts

About us

recent posts

random posts

three columns

like us on facebook

Popular Posts

Blogroll

Ad (728x90)

Company

Legal Stuff

FAQ's

Blogroll

Subscribe to Newsletter

We'll never share your Email address.
© 2015 .. Blogger Templates Designed by Bloggertheme9. Powered by Blogger.